شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا اسلام اور امن کے موضوع پر امریکن مسلم کونسل سے خطاب

امریکن مسلم کونسل نے منہاج القرآن انٹرنیشنل نارتھ امریکہ کے تعاون سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری امریکن مسلم کونسل کی دعوت پر خصوصی طور پر مدعو تھے۔ اس سلسلہ میں 27 دسمبر 2009ء کوامریکی ریاست ٹیکساس میں ہوسٹن کے ہلٹن ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں مسلم سکالرز کے علاوہ عیسائی، ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مذہبی پیشواء بھی موجود تھے، جبکہ تمام مذاہب کے سینکڑوں پیروکار شرکاء نے بھی اس تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو امریکن مسلم کونسل کے بانی چئیرمین شاہد علی سنی کی طرف سے باقاعدہ خوش آمدید کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکن مسلم کونسل کی دعوت قبول کرنے پر وہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے بہت شکرگزار ہیں۔ انہوں نے تقریب کے دیگر مہمانوں کو بھی خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب کا مقصد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دورہ امریکہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کیے جانے کی غلط فہمیوں اور اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان پائے جانے والے غیر ضروری اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو خطاب کی دعوت بھی دی۔

شیخ الاسلام نے سکالرز اور مختلف مذاہب کے شرکاء سے بھرے ہال میں "اسلام اور امن"کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کر دینا مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی بدقسمتی بن گیا ہے۔ حقیقت میں اسلام پرامن مذہب اور دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا دنیا بھر سے خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات امن پر مشتمل ہیں اور اسلام دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے کے بھی آداب سکھاتا ہے۔ اس لیے بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا نہ تو اسلام کا پیغام ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والے مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بدقسمتی یہ ہے کہ بعض عالمی طاقتیں مسلمانوں اور اسلام کو مذہب کے نام دہشت گردی سے جوڑ رہے ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ آج اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان پیدا ہونے والا خلاء دور کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے الزام میں اس خلاء کو روشن خیال مذہبی قیادت ہی پر کر سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض نام نہاد لوگ اسلام کا نام استعمال کر کے اصل میں اسلام دشمن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے لوگ سپانسرڈ دہشت گرد ہیں جن کا کام صرف اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا اور دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلا کر مسلمانوں اور اسلام کے لیے مشکلات بڑھانا ہے۔

آپ نے قرآن و حدیث اور فقہ کے متعدد حوالہ جات سے بھی ثابت کیا کہ اسلام پر امن دین ہے۔ جو کسی مذہب اور فرقے کے پیرو کاروں کے خلاف دہشت گردی کا نظریہ نہیں رکھتا۔ شیخ الاسلام نے بتایا کہ اس وقت مسلمان اور عالم اسلام دہشت گردی کے حوالے سے کڑے دور سے گزر رہے ہیں۔ اس سے پہلے اسلام کو دہشت گردی کے ایسے الزامات سے نہیں گزرنا پڑا۔ آپ نےبتایا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف 600 سے زائد صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ جاری کیا ہے، جو ان دنوں طباعت کے مراحل میں ہے۔ اس فتویٰ کو مختلف عالمی زبانوں میں ترجمہ کر کے ساری دنیا میں شائع کیا جائے گا۔

شیخ الاسلام کے خطاب کے بعد مختلف مذاہب کے سکالرز اور شرکاء نے آپ سے سوالات و جواب کی نشست بھی کی۔ جس میں آپ نے تمام شرکاء کے تفصیلی اور تسلی بخش جواب دیئے۔ اس موقع پر دیگر مذاہب کے سکالرز نے شیخ الاسلام کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں بے حد سراہا۔ سکالرز کا کہنا تھا کہ اسلام کے اس پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر باقاعدہ طور پر یہ کام کیا جائے تو اس سے اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان حائل خلیج رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔

اس تقریب کے دوران ہوٹل کے ھال میں ایک طرف شیخ الاسلام کی کتب و کیسٹ، ویڈیوسی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کے سٹالز بھی لگائے گئے تھے۔ جہاں عام شرکاء نے نہایت دل چسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ شیخ الاسلام کے خطابات سے منتخب کلپس کو بڑی بڑی ویڈیو سکرینز کے ذریعے بھی ہوٹل کے مختلف حصوں میں دکھایا جا رہا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب و کیسٹ، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز کے سٹالز بھی لگائے گئے تھے۔ اس تقریب کے علاوہ ہوسٹن کے 2 دیگر مقامات پر محمد نعیم اور ظفراقبال نے اپنے گھروں میں ایسی ہی نمائشوں کا اہتمام بھی کیا تھا۔

تقریب کے اختتام پر مشترکہ طور پر دورد و سلام پڑھا گیا۔ جس میں دیگر مذاہب کے پیروکار اور شرکاء بھی موجود تھے۔ اس تقریب کو انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ براہ راست بھی دکھایا گیا تھا۔تقریب کے آخر میں منہاج القرآن انٹرنیشنل نارتھ امریکہ کی طرف سے تمام شرکاء کو منہاج القرآن انٹرنیشنل کا تعارف، ممبر شپ فارم اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سی ڈیز، ڈی وی ڈیز اور کتب کے تحائف بھی پیش کیے گئے۔ تقریب کا باقاعدہ اختتام دنیا میں قیام امن کی دعاؤں سے ہوا۔

تبصرہ