منہاج القرآن انٹرنیشنل اوسلو (ناروے) میں فروغ امن ورکشاپ کا انعقاد

منہاج القرآن انٹرنیشنل اوسلو کے زیر اہتمام 10 تا 12 جولائی 2009ء منہاج القرآن یورپین کونسل کے تعاون سے Peace and Integration ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سکینڈے نیوین تنظیمات کے عہدیداران اور وابستگان و رفقاء نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ منہاج القرآن ڈنمارک کا سب سے بڑا قافلہ جو کہ 250 افراد پر مشتمل تھا اس پروگرام میں شامل ہوا۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں تحریکی کارکنان و قائدین نے سویڈن، فن لینڈ، جرمنی، سپین، فرانس اور انگلینڈ سے شرکت کی۔ ورکشاپ کی سرپرستی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فرمائی اور روزانہ شرکاء ورکشاپ سے تربیتی گفتگو فرمائی۔

ورکشاپ سے جن مرکزی رہنماؤں نے خطاب کیے ان میں منہاج القرآن سپریم کونسل کے صدر صاحبزادہ حسن محی الدین قادری، مرکزی ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، تحریک منہاج القرآن لندن کے امیر علامہ صادق قریشی، منہاج القرآن فاؤنڈیشن یورپ کے ڈائریکٹر علامہ حافظ اقبال اعظم، علامہ نور احمد نور اور علامہ حسن میر قادری شامل تھے۔

ورکشاپ میں جن موضوعات پر تقاریر اور گفتگو کی گئی ان میں، تربیتی ورکشاپ کے اغراض و مقاصد، منہاج القرآن کے اغراض و مقاصد اور اہداف، خدمت دین کے لیے مطلوبہ کردار قرآن و حدیث کی روشنی میں، قائد اور کارکن کا باہمی تعلق، ایک مثالی تنظیم کی خصوصیات اور ہمارے کرنے کے کام، اسکے علاوہ بڑی سکرین پر مرکز اور آغوش کے بارے میں ڈاکومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔ نماز جمعہ کا خطاب منہاج القرآن سپریم کونسل کے صدر صاحبزادہ حسن محی الدین قادری نے تعلق اور نسبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موضوع پر پرمغز اور مدلل خطاب فرمایا۔

کیمپ کا باقاعدہ آغاز قاری ظہیر احمد (ڈنمارک) نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے کیااور نعت مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سعادت بھی منہاج نعت کونسل ڈنمارک کے حصہ میں آئی انہوں نے اپنی عقیدتوں کے پھول حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ اقدس میں نعت کی صورت پیش کیے۔ تربیتی نشت سے شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری نے خصوصی خطاب فرمایا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ علم کے لیے کیا گیا سفر وہی مقبول ہوتا ہے جو علم سیکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ علم اور اپنے احوال کو بدلنے کیے لیے انبیاء، صلحاء اور اولیائے کرام اپنی زندگیوں میں کثرت سے سفر کرتے تھے کیوں کہ جو کچھ انسان سفر میں سیکھ سکتا ہے وہ ایک ہی جگہ اور مقام پر رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفر کے دوران کھبی سہولت کا خیال نہ رکھا جائے، کیونکہ یہ تربیت کا ایک حصہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری زندگیاں بھی سفر ہیں اور ہمیں آخرت کے سفر کو کبھی نہیں بھولنا چائیے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ سے شدید محبت کریں، کیونکہ محبت کو شرک گوارا نہیں اور اللہ جب محبت کی بات کرتا ہے تو وہ پھر اپنے اکیلے کے لیے بات نہیں کرتا بلکہ اس کی محبت میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی محبت بھی شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان بھی مسافر ہے اس لیے ہمیں چائیے کہ ہم جو اپنے دلوں میں شیطان کی جو محبت لیے بیٹھے ہیں اس سے چھٹکارا حاصل کریں اور اپنے من کے اندر اللہ اور اسکے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے محبت پید ا کریں تاکہ ہم اپنے احوال کو بدل سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے محبت کے باب میں فرق مٹا دیا ہے اور دیوار گرا دی ہے، اللہ تعالیٰ نے محبت رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جہت ایک بنا دی، حرمت ایک بنا دی، حکم ایک بنا دیا، پہلی علامت ایمان کی یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دو کے سوا ہر چیز ہر شئے سے زیادہ محبوب ہو۔ یہ اسلو ب اللہ نے کسی کے لیے نہیں اپنایا، کہ کسی مخلوق کو اپنے ساتھ شریک کر کے ایک اپنا نام لے اور ایک مخلوق کا اور کہے کہ ان دو کے سوا، یہ کسی کے لیے جائز نہیں، یہ صرف جائز رکھا ہے اللہ پاک نے حضور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے۔ اللہ پاک نے محبت کے اسلوب میں فرق مٹا دیا ہے ان دو کے سوا کسی شئے کی محبت اتنی عزیز نہ ہو جتنی اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت ہے۔

تربیتی کیمپ میں دو نارویجن افراد نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ نمازجمعہ کی نماز کے بعد منہاج القرآن اوسلو میں اعلان کیا گیا کہ ایک نارویجن اسلام قبول کرنا چاہتی ہے اور اس بات کا اقرا ر سب کے سامنے کرنا چاہتی ہے۔ اس خاتون کو بھرے مجمع میں لایا گیا اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سامنے اسلامی حجاب میں اس نے اسلام قبول کیا۔ منہاج القرآن اوسلو کے ہال میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سب سے پہلے انگریزی زبان میں خاتون سے پوچھا کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہی ہے یا کوئی زبردستی ہے؟ خاتون نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہی ہوں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے خاتون کو کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت اور دوسرے کلمات پڑھائے اور اہم اسلامی ارکان اور عقائد کے بارے میں بتایا۔ خاتون کا نیا نام زینب رکھا گیا۔ اسی طرح ایک نارویجن مرد نے بھی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ہاتھ پر اوسلو کے وسطی علاقہ لوئرنسکوج میں اسلام قبول کیا۔ قبول اسلام کی تقریب کے موقع پرنو مسلم کا نیا نام احمد حسین رکھا گیا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زیر صدارت ایک اجلاس میں منہاج القرآن کے کارکنان اور رفقاء نے اوسلو شہر کے اندر 40 مختلف مقامات پر حلقہ درود قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ حلقہ درود میں درس قرآن و حدیث، حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود و سلام، محفل نعت و ذکر کے علاوہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کا درود و سلام کی فضیلت پر کیا گیا خطاب بھی سنایا جائے گا۔ حلقہ درود کا دورانیہ 2 گھنٹے سے زائد نہیں ہو گا اور ہر ہفتہ میں چالیس مختلف مقامات پر حلقہ درود منعقد کیے جائے گے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے حلقہ درود قائم کرنے کے موقع پر خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ حلقہ درود کے قیام سے مشن کو فروغ ملے گا اور اُمت مسلمہ کو حضورنبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حبی، قلبی اور روحانی تعلق قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ اس طرح ناروے اور اوسلو کے ہر محلہ میں حلقہ درود کے قیام سے امت کا حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ قائم ہو جائے گا اور درود پاک کی برکات سے ہمارے بہت سارے مسائل اور پریشانیاں کم ہو جائے گی۔
رپورٹ: عقیل قادر(ناروے)

تبصرہ