بدلتے حالات کے مطابق قومی بیانیہ تشکیل دینا ریاست اور عوام دونوں
کی ذمہ داری ہے
سطحی جذباتیت اور غیر ذمہ دارانہ سوچ ملک کو دہائیاں پیچھے دھکیل سکتی ہے: صدر منہاج
القرآن انٹرنیشنل

لاہور(30 جنوری 2025)صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے دورۂ ملائشیا کے دوران پاکستانی قومی میڈیا کے نمائندوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے ایک خصوصی نشست کی، جس میں عصرِ حاضر کے فکری، سماجی، تعلیمی اور دینی موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی و بین الاقوامی سیاسی، سماجی و معاشی حالات بدل رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے ان حالات کے مطابق ذمہ دارانہ قومی بیانیہ تشکیل دینا ریاست اور عوام دونوں کی ذمہ داری ہے۔ سطحی جذباتیت ملک کو دہائیاں پیچھے دھکیل سکتی ہے، اس ضمن عامۃ الناس کو سنجیدہ اور غیرجذباتی رہنمائی مہیا کرنا میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ اوورسیز پاکستانی تعلیمی و سماجی شعبہ جات میں ہونے والی ترقی سے استفادہ کریں اور پھر اس ماڈل کو اپنے ملک میں اپنائیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نےکہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی شعور، فکری سمت اور قومی ترجیحات کے تعین میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشروں کی تعمیر اور عوامی مکالمہ بنیادی ستون ہیں، اور ان تمام پہلوؤں میں میڈیا کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں کہا کہ فکری انتشار،
غلط معلومات اور غیر ذمہ دارانہ اظہار رائے نے معاشرتی نظم اور اخلاقی اقدار کو متاثر
کیا ہے، ایسے میں صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داری عائد
ہوتی ہے کہ وہ تحقیق، توازن اور اخلاقی اقدار کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا
کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے
موضوعات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر صدر منہاج ایشین کونسل عبدالرؤف بھٹی، منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے منیجنگ
ڈائریکٹر فیصل حسین، صدر منہاج القرآن ملائشیا علی رضا، صدر منہاج القرآن آسٹریلیا
محمد واثق، امجد رضا، غلام علی سولنگی، محمد عمر القادری، طارق محمود، یاسر مقصود،
مہتاب عباسی، محمد شفیق بن محمد عارف اور محمد اقبال جنجوعہ سمیت دیگر شخصیات بھی موجود
تھیں۔

تبصرہ