زمینی حقائق اور مسئلہ کشمیر

یہ آرٹیکل جنگ اخبار میں مورخہ 05 فروری 2010ء کو شائع ہوا ہے ملاحظہ کرنے کے لئے کلک کریں۔

تحریر : صاحبزادہ حسین محی الدین القادری

پاکستانی عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے کشمیر ڈے منا کر ان کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ سیمینارز، کانفرنسز، ریلیاں اور ورکشاپس عالمی برادری کو پیغام دیتی ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ابھی تک نہیں مل سکا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے حکومتوں کی پالیسیاں عوامی جذبات کی نمائندہ کبھی نہیں رہیں اور مسئلہ کشمیر کو پاکستانی حکمرانوں نے مثبت انداز میں حل کرنے کی کبھی سنجیدہ کاوش نہیں کی اور کشمیر کاز کو ہر دور میں نقصان ہوا ہے۔ 63 سال جذباتی کار روائیوں، غیرحقیقت پسندانہ سیاسی پالیسیوں اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے اور کشمیر کاز کو سول و فوجی حکمرانوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، یہی روش جاری رہی تو اگلے 163 برس بھی یہ مسئلہ حل طلب ہی رہے گا۔

حل کے لئے تجاویز کی طرف بڑھنے سے قبل ماضی میں جھانکنا ضروری ہے۔ کشمیر کامہاراجہ بوجوہ نہرو اور گاندھی سے متنفر تھا، اسے بھارتی قیادت سے چڑ تھی وہ پاکستان سے الحاق چاہتا تھا اس لئے اس نے حکومت پاکستان کے ساتھ کچھ معاہدات بھی کئے۔ مگر 1948 میں ڈائیلاگ کے اس عمل کے دوران ہی حکومت پاکستان نے حماقت کرتے ہوئے قبائلیوں کو کشمیر پر چڑھا دیا، نتیجتاً دو دن بعد راجہ نے بھارتی فوج کو مدد کے لئے بلا لیا۔ اس دوران پاکستان کو بڑا نقصان پٹھان کوٹ سے ہاتھ دھو کر ہوا۔ پنجاب کے حکمرانوں نے اپنی جاگیریں بچانے کے لئے دفاعی لحاظ سے اہم ترین جگہ بھارت کو پلیٹ میں رکھ کر دے دی، یوں بھارت کو کشمیر میں مستقل زمینی راستہ مفت میں ہاتھ لگ گیا۔ اسی طرح کی احمقانہ مہم جوئی کارگل کے محاذ پر ماضی قریب میں بھی دھرائی جا چکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے کی جانے والی کوششیں غیر ذمہ دارانہ انداز میں کی گئیں اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلندی پر ہونے کا فائدہ کبھی بھارت نے نہیں اٹھایا، حملوں میں پہل پاکستان کی طرف سے ہوئی۔

مقبوضہ اورآزاد کشمیر کا موازنہ کریں تو بھارت کے زیر تسلط علاقہ ترقیاتی کاموں کی گواہی دیتا ہے جبکہ پاکستانی کشمیر چاروں صوبوں سے بھی زیادہ پسماندہ ہے۔ کسی حکومت نے بھی عالمی سطح پر کشمیر کے کیس کو درست انداز میں پیش نہیں کیا۔ سفارتخانوں میں ذاتی پسند نا پسند پر کشمیر کی ابجد سے ناواقف افراد کو تعینات کر کے نوازا جاتا رہا نتیجتاً بھارت نے اپنے کمزور ترین کیس کو سچا ثابت کرکے عالمی برادری میں پاکستان کو تنہا کر دیا ہے۔ دوسری طرف موجودہ معاشی اور سیاسی حالات کے تناظر میں کوئی ملک بھی پاکستان کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں بے ثمر اس لئے ہیں کہ ان کی وکالت پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھ ہے۔

کشمیر کے کیس کو مسخ کرنے میں مذہبی جماعتوں کا کردار کسی المیے سے کم نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ ایسے انتہاپسندانہ عناصر کی کار رو ائیوں کو بنیاد بنا کر منظم میڈیا وار کے ذریعے اپنی گرفت کو مضبوط تر کیا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے پاکستان کے اندر کشمیر کے نام پر چندہ اکٹھا کر کے معصوم جوانوں کو قربانی کا بکرا بنایا، ان نام نہاد مجاہدین نے کشمیر کی سیاسی تحریک کا گلا دبانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں ایک خوش فہمی کا ذکر ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ جیسے ناکارہ ادارے کی طرف اب بھی امید لگانا بے وقوفی ہوگی کیونکہ اس کی پہچان ایک ناکام اور جانبدار ادارے کے طور پر مسلمہ ہو چکی۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی تنخواہ امریکہ دیتا ہے اس لئے وہ مسلم ممالک کے کسی بھی سطح کے مسئلے کے حل میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوا۔ کشمیر ہو یا فلسطین، افغانستان ہو یا عراق اقوام متحدہ کا کردار امریکہ کے غلام ادارے سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔

مسئلے کے حل کے لئے خود مختار کشمیر کا آپشن قطعاً درست نہ ہوگا کیونکہ یہ اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی زیادہ ہے اس لئے کم آبادی والا حصہ اقتدار سے محروم رہے گا اس لئے ایسا ان کے لئے نا قابل برداشت ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں طرف کی سیاسی پارٹیوں کو اقتدار میں رہنے کی عادت پڑ چکی ہے اس لئے وہ اس آپشن کو قبول کرنے کے میں تامل کریں گی۔ انڈیا اور پاکستان بھی اپنے اپنے مفادات کے لئے اسے کامیاب ریاست نہیں بننے دیں گے۔ کشمیر چونکہ ہمالیہ کے سلسلے کا حصہ ہے اس لئے اس کی بلندی بھارت، چین اور روس پر نظر رکھنے کے لئے امریکہ کو مستقل یہاں کھینچ لائے گی اور یہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائے گا۔ خود مختار کشمیر کی سمندر سے محرومی اسے نیپال کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنادے گی۔

جھگڑے کے حل کے لئے ایسی سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ لائن آف کنٹرول کو انٹر نیشنل بارڈر تسلیم کر کے دونوں طرف کے کشمیریوں کے لئے اندرونی بارڈر کھول دیا جائے دونوں آپس میں تجارت اور اس حوالے سے معاہدات کرنے میں آزاد ہوں اسی طرح ایک حل یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی اکثریت کی بنیاد پر کشمیر کو بھارت اور پاکستان میں تقسیم کردیا جائے۔

پاکستان کے لئے بہترین ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر کی بال کو مذاکرات کی کورٹ میں ڈال دے اور دفاعی بجٹ کو کم کر کے توجہ تعلیم کے فروغ، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت اور ترقیاتی کاموں پر دے کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات دو طرفہ نیو کلیئر اہلیت کے باعث نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ اپروچ کے ساتھ مثبت اور تعمیری جذبہ سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں اطراف کی سیاسی قیادت کو ایسے اداروں اور عناصر پر گہری نگاہ رکھنا ہوگی جو کشمیر کے زخم کو مند مل ہوتے نہیں دیکھ سکتے، زخموں کا رستے رہنا ہی ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے عوام بے رحمانہ زندگی گزارنے پر مجبور بنا دیئے گئے ہیں۔

بندوق سے تو آج تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا اس لئے اس بنیادی اصول کو کبھی فراموش نہ کیا جائے کہ جھگڑوں سے نہیں قومیں خوشگوار ماحول میں ترقی کرتی ہیں۔ تنازعہ سرکریک کا ہو یا سیاچن کا، پانی کا ہو یا کشمیر کا سیاسی حکومتوں کے مذاکرات سے حل ہوگا۔ دونوں اطراف کی حکومتیں اپنے عوام پر رحم کھائیں۔ اٹوٹ انگ اور شہ رگ کی رٹ نے افراتفری، نفرت، خوف، بھوک اور بیروزگاری کے سوا اس خطے کو کچھ نہیں دیا۔ اچھے ہمسائیوں کی طرح باہمی احترام اور برداشت کے ساتھ مل بیٹھیں تو متنازعہ ترین مسائل کا حل ضرور نکلے گا، شرط یہ ہے کہ دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔ پہلے چھوٹے مسائل کو حل کر کے اعتماد کو پروان چڑھائیں تو بالآخر وہ وقت بھی آجائے گا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور جنوبی ایشیاء معاشی اتحاد کی منزل پر پہنچ کر خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوجائے گا۔

تبصرہ