منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے زیراہتمام پاکستان اور حقیقی جمہوریت کانفرنس

منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے زیراہتمام "پاکستان اور حقیقی جمہوریت کانفرنس" 4 مئی 2013 کو نیو بنگلے ہال برمنگھم میں منعقد ہوئی، جس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔ کانفرنس برطانوی وقت کے مطابق دن 1بجے شروع ہوئی جسے چینل c92.tv کے ذریعے دنیا بھر میں براہ راست پیش کیا گیا۔ کانفرنس میں برطانیہ کے علاوہ یورپین ممالک سے بھی ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ جب لوگوں کے سامنے ظلم و ستم، حقوق کی پامالی اور ناانصافی ہو رہی ہو، جب ظالم ظلم کر رہا ہو، طاقتور غریب اور کمزور کی حق تلفی کر رہا ہو مگر لوگ دیکھتے ہوئے، جانتے ہوئے ان ڈاکووں، جابروں کے خلاف نہ اٹھیں تو اللہ تعالیٰ ساری قوم کو عذاب میں لے لے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں بے حیائی و بددیانتی و خیانت کے خلاف لوگ نہ اٹھیں، بلکہ خاموش رہیں، ان کی خاموشی پر اللہ کا عذاب اترے گا اور پوری قوم کو لپیٹ میں لے لے گا۔

حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ فتنوں کا دور وہ ہو گا جب تمہارے اندر یہ چیز عام رواج پا جائے کہ وعدے توڑے جائیں، امانتوں میں خیانت، کرپش و لوٹ مار کرنے والے، حق تلفی کرنے والے، الگ الگ تنظیموں کے ہوتے ہوئے آپس میں ایسے اکٹھے ہونگے جیسے ہاتھ کی انگلیاں اکٹھی ہوتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب ایسے حالات آ جائیں کسی کی مت سننا، بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر چلنا، حق پر ڈٹ جانا، عوام کے پیچھے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور فتن میں ہم نے عوام کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کی۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ  جس سوسائٹی میں لیڈر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجائے عوام کے پیچھے چلیں، نیکی اور بدی میں فرق نہ کریں، اس سوسائٹی پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ہم جس زمانے و حالات میں رہ رہے ہیں، کسی شاعر نے اس کی کیا خوب تصویر کشی کی

میرے گھر کو آگ لگی تھی
کچھ لوگ بجھانے آئے تھے
جو مال بچا تھا جلنے سے
سو وہ بھی ان کے ہاتھ لگا

65 برس سے غریب کے حقوق سے کھیل کر جمہوریت کو پلید کرنے والے سیاسی حکمرانوں کے لیے  شاعر نے کہا کہ

لہو کو بیچ کر روٹی خرید لایا ہوں
امیر شہر بتا یہ حلال ہے یا نہیں

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ 11 مئی کو یہ نظام انہی کرپٹ و خائن لوگوں کو پلٹ کر دوبارہ لا رہا ہے،  یہاں نظام تو دور کی بات چہرے بھی نہیں بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ الیکشن کمیشن نے آئین کی تضحیک کر کے ٹیکس چوروں کو آرٹیکل 62، 63 کی گنگا میں نہلا کر آگے بھیج دیا ہے۔ اب یہ ڈاکو کہیں گے کہ ہم متقی ہو گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے ہمیں سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے، اس سارے عمل کا ذمہ دار غیر آئینی کرپٹ الیکشن کمیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے کرپٹ الیکشن کمیش کو تحفظ دیا، یاد رکھیں یہ قوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 11 مئی کا انجام دیکھ کر قوم پر حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سو فیصد درست کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بدی سے سمجھوتہ نہیں کیا، حق کا دامن تھاما، گدلے اور گندے پانی سے پیاس نہیں بجھائی۔ اس ظالمانہ، غاصبانہ و غیر منصفانہ اور فرسودہ نظام انتخاب کو لات مار کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی پیروی کی۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ ادارے دہشت گردی سے ملک کو پاک صاف کرنا چاہتے تو کیوں خاموش ہیں؟ گونگے کیوں ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ کون کون ملا کہاں کہاں سے فنڈنگ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 33 سال کی میری جدوجہد میں میرے کسی ادارے کے نام کسی قسم کی فنڈنگ ثابت ہو گئی تو گردن کٹوا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ غوث پاک کا مرید ہوں، میرا کوئی جوتا بھی نہیں خرید سکتا۔ غوث پاک کا مرید کسی کی فنڈنگ نہیں بلکہ وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹکڑوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت حقوق کی ادائیگی، معاشرے میں انصاف، آزادی، دوسروں کے احترام کا نام ہے۔ ہماری ڈیمانڈ حقیقی جمہوریت جس میں غریب کے حقوق کی ادائیگی، معاشرے میں امیر و غریب کو برابری سطح کا انصاف،  کرپشن کا خاتمہ اور اہل لوگوں کو اوپر لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں 25 ملک ایسے ہیں جنہیں مکمل جمہوری ملک کہتے ہیں، 53 ملک جنہیں فلاٹ جمہوری کہتے ہیں، 37 ملک ایسے ہیں جنہیں ہائبریڈ رجیمز کہتے ہیں، ان ہائبرڈ رجیمز ممالک میں انتخابات ہوتے ہیں اور انتخابات کے نام پر کرپشن ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  جمہوریت کے انڈکس میں یوگنڈا پاکستان سے بہتر ہے، اکانومنسٹ کی رپورٹ کے مطابق یوگنڈا کا درجہ 96، فلسطین 99، کینیا 103، بھوٹان 104 اور پاکستان 105 درجہ پر ہے۔

پاکستان معاشی و اقتصادی اعتبار سے اہلیت و صلاحیت اور استعداد میں 2008-2007 میں 92 رینک پر تھا، 2009-2008 میں 12 درجے نیچے گر گیا، 2010 میں پاکستان کا نمبر 101 تھا اور اب مزید گر کر 123 پر آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں جمہوریت ہوتی تو قانون کی حکمرانی ہوتی، غریب اور امیر کے لیے ایک جیسا قانون ہوتا، انصاف کی فوری فراہمی ہوتی۔ 11 مئی کو دیکھ لینا تبدیلی کا نام لینے والے پریس کانفرنس کر رہے ہونگے کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ میرے نزدیک یہ نظام اس ملک کو ترقی نہیں دے سکتا، اس لیے میں اس گندے نظام کا حصہ نہیں بنا، میں اس نظام کو سمندر برد کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا  کہ میں پرامن اور جمہوری تبدیلی کا علمبردار ہوں۔ میں وہ پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں جو بڑی سے بڑی طاقت کو No کہہ سکتا ہو۔ میرے وژن ہے۔۔۔ میں پاکستان کو 35 صوبے دینا چاہتا ہوں، ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہتا ہوں، صوبے میں کسی وزیر اعلیٰ و کیبنٹ نہیں بلکہ گورنر چاہتا ہوں، تمام پاورز تحصیلی و ضلعی حکومت کو دینا چاہتا ہوں۔ غریب کے خون پر پلنے والوں اور ان کے محلے اجاڑنے والوں سے محلات چھین کر غریبوں کو لوٹانا چاہتا ہوں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے قوم کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریاست و غریب دشمن نظام کا حصہ بن کر گناہ نہ کرنا، گدھ بن کر مردار نہ کھانا، ہمیشہ شہباز بننا، پرواز اوپر رکھنا۔ انہوں نے  کہا کہ وہ وقت جلد آئے گا جب غریب ان لٹیروں، جابروں سے اپنے حقوق بڑھ کر چھین لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے بھروسے اور توکل سے جدوجہد کو جاری رکھیں، منزل ضرور ملے گی۔

کانفرنس سے خواجہ غلام قطب الدین یار فریدی، اے آر وائی نیوز کے معروف اینکر ڈاکٹر دانش اور دیگر اہل علم و دانش اور مفکرین نے کانفرنس سے پرمغز خطابات کیے۔

مکمل خطاب ملاحظہ کرنے کے لیے کلک کریں

تبصرہ