پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی ماسکو میں عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی، عالمی امن کے لیے مذہبی و روحانی قیادت کے کردار پر زور

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور اور یونیسکو چیئر برائے امن تعلیم و بین الثقافتی مکالمہ، نے ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی سائنٹفک اینڈ پریکٹیکل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اسپریچوئل اسمبلی آف مسلمز آف رشیا کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور مختلف خطوں میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذہبی و روحانی قیادت پر امن کے فروغ، اتحاد کے استحکام اور اقوام کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

متعلقہ روسی اداروں کے تعاون سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں تقریباً 56 ممالک سے مذہبی رہنماؤں، حکومتی عہدیداران، جامعات کے وائس چانسلرز، اسکالرز اور سیاسی، سماجی و علمی حلقوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس کی نشستوں میں اس امر پر غور کیا گیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات کے حل اور امن کے قیام کے لیے مذہبی و روحانی قیادت کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مختلف ممالک سے شریک وفود کی جانب سے پیش کی جانے والی آرا، تجاویز اور مباحث کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کی قوت اقوام کو متحد کرنے اور مثبت سماجی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو امن، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ کے لیے بروئے کار لائیں۔

بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کی بنیادی اساس پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ دنیا کے مذاہب کا گہرا مطالعہ اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان ہر مذہبی روایت کے مرکز میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو پیدائش ہی سے عزت، وقار اور احترام کا بنیادی حق عطا کیا ہے۔ یہ حق جدید ریاستوں، قومی سرحدوں، پاسپورٹس، لسانی رکاوٹوں یا دیگر سیاسی و جغرافیائی تقسیموں کے وجود میں آنے سے بھی پہلے انسان کو حاصل تھا۔ اس لیے انسان کا احترام کسی قومیت، جغرافیے یا سیاسی شناخت کی عطا کردہ رعایت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی قدر اور حق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممالک محض عمارتوں، سرحدوں، اداروں یا انفراسٹرکچر سے نہیں بنتے بلکہ ان میں بسنے والے انسانوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ اسی طرح مذاہب کی نمائندگی صرف ان کی کتب یا عبادت گاہوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کے پیروکاروں کے کردار، طرز عمل، اقدار اور اجتماعی زندگی سے بھی ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں انسان ہی بنیادی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر انسانی حقوق، انسانی وقار، زندگی، امن اور سلامتی مسلسل متاثر ہوتے رہیں تو ریاستیں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر رہیں، اسی طرح مذہبی، مسلکی اور سماجی برادریاں بھی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے اجتماعی ترجیحات پر ازسرنو غور کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی، مذہبی، روحانی اور سماجی سرگرمیوں کے مرکز میں انسان کو رکھا جانا چاہیے۔ اگر مذہبی، سیاسی اور روحانی قیادت حقیقی معنوں میں انسانیت کو اپنی فکر اور فیصلوں کا محور بنا لے تو دنیا میں بامعنی اور مثبت تبدیلی کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے کھڑکی کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ مختلف مذاہب اور روحانی و فکری روایات کو ایسی کھڑکیوں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جن کے ذریعے انسان دنیا، انسانیت اور ایک دوسرے کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑکی کی اصل اہمیت اس کے فریم یا شیشے کی قیمت میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کے ذریعے باہر کی دنیا کتنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ اگر شیشہ دھندلا ہو تو خوبصورت منظر بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایک سادہ سی کھڑکی بھی صاف شیشے کے ذریعے واضح منظر پیش کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں مذہبی، مسلکی، سماجی اور سیاسی نقطۂ ہائے نظر مختلف صورتوں میں دھندلاہٹ کا شکار ہوئے ہیں، جس کے باعث انسانی حقیقت کو اس کی مکمل صورت میں واضح طور پر دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ مذہبی، روحانی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلسل اپنی فکری ’’کھڑکیوں‘‘ کو صاف کرتی رہے اور اپنے نقطۂ نظر کو وسیع کرے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ ان معاشروں اور برادریوں کے لیے بھی جن کی وہ رہنمائی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب نگاہ اور نقطۂ نظر واضح ہو جاتا ہے تو انسان دوسروں کے حقوق، عزت و وقار، تکالیف اور ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن اختلاف انسان کے احترام کو ترک کرنے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ انسان مرکز فکر و عمل کا رویہ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اقوام اور معاشروں کے درمیان بہتر تعلقات، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

مسلم دنیا کے ایک نسبتاً کم معروف پہلو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ عالمی سطح پر اگرچہ مشرق وسطیٰ میں آباد مسلم برادریوں سے عمومی طور پر واقفیت پائی جاتی ہے، تاہم روس اور وسطی ایشیا میں آباد لاکھوں مسلمانوں کی تاریخ، ثقافت اور سماجی خدمات کے بارے میں نسبتاً کم آگاہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ماسکو میں 35 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اجتماعات روس کی مسلم برادریوں کی مذہبی زندگی اور ان کی مثبت سماجی و معاشرتی خدمات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ آج دنیا کو اپنی سیاسی، مذہبی، روحانی اور سماجی ترجیحات میں بنیادی طور پر انسان مرکز تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انسانی وقار، بنیادی حقوق، زندگی، امن، سلامتی اور انسانی بہبود کو اجتماعی فیصلوں اور اقدامات کا مرکز رہنا چاہیے۔ اگر مذہبی، سیاسی اور روحانی قیادت اپنی اپنی ’’کھڑکیوں‘‘ کو صاف رکھے، اپنے نقطۂ نظر کو وسیع کرے اور انسانیت کو اپنی فکر و عمل کا مرکز بنائے تو بین المذاہب، بین المسالک، قومی اور عالمی امن و ہم آہنگی کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد قائم کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اسلام سے متعلق مذہبی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے روسی حکومت کی معاونت کو بھی سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کے حکومتی تعاون سے منعقد ہونے والے اقدامات روسی مسلمانوں کے تجربات، نقطۂ نظر اور معاشرتی کردار کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کی جانب سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور مذاہب، تہذیبوں اور اقوام کے درمیان بامعنی مکالمے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی فورمز میں پاکستان کی شرکت اور دونوں ممالک کے مذہبی، علمی اور سماجی طبقات کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

کانفرنس میں روس کے مختلف مسلم اداروں کے نمائندگان، مذہبی اسکالرز اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں اور نمائندگان نے شرکت کی۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی شرکت کے باعث مختلف ممالک اور متنوع مذہبی و فکری روایات سے تعلق رکھنے والے شرکاء کے درمیان مذہبی، روحانی اور علمی افکار و تجربات کے تبادلے کو فروغ ملا۔

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

Dr Hussain Qadri represents Pakistan at Moscow international conference 2026

تبصرہ