
ہانگ کانگ: ملی مجلس سیرت اور اسلامک بورڈ آف ٹرسٹیز کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء بروز اتوار جامع مسجد کولون ہانگ کانگ میں تیسری سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس بسلسلہ میلاد النبی ﷺ منعقد ہوئی۔
ڈاکٹر مفتی محی الدین نحوی امام و خطیب جامع مسجد کولون نے انگلش میں ’’النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسہم‘‘ کے تحت عظمتِ رسول ﷺ پر خطاب کیا اور محبت و سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا۔ مولانا حافظ ذیشان اسلم نے ’’محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے کیا ہیں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے عشقِ رسول ﷺ کے تقاضوں اور عملی زندگی میں اس کے اظہار پر روشنی ڈالی۔ امام محمد زبیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت و سنت پر عمل کرنے میں ہی نجات ہے۔
مفتی محمد شعیب نے سورۃ الفتح کی آخری آیت کے تحت اصحابِ رسول ﷺ کی عظمت و شان پر گفتگو کی اور نوجوانوں کے ایمان کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا۔ علامہ احمد جمال ناصر نے حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی ریاض احمد شیخ، قونصل جنرل آف پاکستان نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس عظیم الشان پروگرام میں شرکت کرنا ان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔
مولانا گوہر رضا قمی امام و خطیب اثنا عشری ایسوسی ایشن نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں شرکت اور گفتگو کرنا ان کے لیے سعادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نزولِ قرآن کی رات ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے تو جس رات اس ہستی کی ولادت ہوئی جن کے قلبِ اطہر پر قرآن نازل ہوا، اس رات کی عظمت کا کیا عالم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو پوری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی جنرل سیکرٹری ملی مجلس سیرت نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اس عظیم الشان سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں حاضری قبول فرمائے۔ انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی اور علماء کرام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سب کے تعاون سے اتحادِ امت کی اس سعی و کاوش کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے عظمت و شانِ مصطفیٰ ﷺ پر خطاب کرتے ہوئے سابقہ آسمانی کتب میں بیان کردہ اوصافِ محمدی ﷺ کا ذکر کیا اور کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ اعلیٰ اخلاق کے حامل ہوں گے، بازاروں میں شور وغل کرنے والے نہیں ہوں گے، خوشخبری اور ڈر سنانے والے ہوں گے اور جاہلوں کو علماء بنا دیں گے۔ انہوں نے سابقہ کتب میں امتِ محمدی ﷺ کی بیان کردہ عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت نمازیں ادا کرے گی، نیکی کا حکم دے گی اور برائی سے روکے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کی صفات کا رنگ اپنی زندگیوں پر چڑھانا چاہیے، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
مفتی محمد ارشد صدر ملی مجلس سیرت نے کانفرنس میں شرکت کرنے والی تمام تنظیمات کے سربراہان، مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عظمتِ رسول ﷺ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ مسلمانوں کے آپس میں متحد ہونے پر خوش ہوتے تھے، اسی لیے آپ ﷺ نے مواخات قائم فرمائی۔ آپ ﷺ لوگوں کی اصلاح اور خیر کی طرف آنے پر خوش ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نفرتوں کو ختم اور محبتوں کو پروان چڑھانا چاہیے اور ایسے اعمال اختیار کرنے چاہئیں جن سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوں، کیونکہ اسی میں ہماری کامیابی ہے۔
سعید الدین سابق چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز نے کلماتِ تشکر ادا کیے اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اتحادِ امت کے لیے ملی مجلس سیرت کی بنیاد رکھی۔
کانفرنس میں نقابت کے فرائض حافظ محمد طیب شمیم، مولانا امجد خان اور علامہ محمد ظہیر نقشبندی نے انجام دیے، جبکہ تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت قاری اویس ربانی اور قاری محمد عثمان الترازی نے حاصل کی۔ ثناء خوان حضرات نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جن میں قاری محمد عثمان (فنلنگ مسجد) اور قاری صابر حسین صابری (محمدیہ غوثیہ) شامل تھے۔
کانفرنس میں مہمانِ خصوصی قونصل جنرل آف پاکستان ریاض احمد شیخ تھے، جبکہ چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز عاقل خان، سابق چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز سعید الدین، مختلف تنظیمات کے سربراہان، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اختتام پر حافظ ابراہیم نقشبندی نے ملتِ اسلامیہ و اسلامیانِ عالم کی سلامتی و استحکام کے لئے خصوصی دعا کی۔








تبصرہ