الہدایہ آسٹریلیا 2026: روحانی رفاقت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سفر

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریلیا کے زیرِاہتمام 10 تا 12 جولائی 2026 کو ’’دی گریٹ آسی بش کیمپ‘‘ میں منعقد ہونے والا ’’الہدایہ آسٹریلیا 2026‘‘ ایک منفرد روحانی، فکری اور تربیتی اجتماع تھا، جس کا مرکزی عنوان ’’الصحبة والسير إلى الله‘‘ (روحانی رفاقت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سفر) تھا۔ اس روحانی اجتماع کا مقصد شرکاء کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن، محبتِ رسول ﷺ اور صالحین کی صحبت کے ذریعے ایک بامقصد اسلامی زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

اس سال کے کیمپ کا بنیادی تصور ’’سلوک‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف روحانی سفر پر مبنی تھا، جہاں ہر شریک کو ایک ’’سالک‘‘ کی حیثیت سے اپنی ظاہری و باطنی اصلاح، اخلاقی تربیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس سفر کا آغاز نفس، قلب اور کردار کی پاکیزگی سے ہوتا ہے اور اس کی منزل قربِ الٰہی ہے۔

سرپرست اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی اور صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی رفاقت میں منعقد ہونے والے اس تین روزہ کیمپ میں آسٹریلیا کے مختلف شہروں، جن میں سڈنی، ملبورن، برسبین، ایڈیلیڈ، پرتھ اور کینبرا شامل ہیں، سے مرد، خواتین، نوجوان، طلبہ اور خاندانوں نے بھرپور شرکت کی۔ تین دن تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں روحانی و فکری خطابات، اجتماعی عبادات، ذکر و دعا، تربیتی نشستیں، نوجوانوں اور خواتین کے خصوصی سیشنز، تنظیمی ملاقاتیں، رفاہی سرگرمیوں کا تعارف، بچوں کی سرگرمیاں اور مختلف تفریحی و تربیتی پروگرام منعقد ہوئے، جنہوں نے شرکاء کو علم، عمل اور روحانیت کا ایک متوازن ماحول فراہم کیا۔

الہدایہ آسٹریلیا: پہلا دن – 10 جولائی 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

الہدایہ آسٹریلیا 2026 کے پہلے روز کی سرگرمیوں کا آغاز جمعہ کے خطبے اور نماز سے ہوا، جبکہ مختلف شہروں سے آنے والے شرکاء کی رجسٹریشن اور آمد کا سلسلہ دوپہر تک جاری رہا۔ کیمپ میں پہنچنے والے مہمانوں کا منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریلیا کی انتظامیہ، ذمہ داران اور منتظمین نے انتہائی گرمجوشی، محبت اور اخوت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے رجسٹریشن ڈیسک، بک اسٹال اور مختلف نمائشی حصوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے رضاکاروں اور منتظمین سے ملاقات کی، ان کی شب و روز محنت کو سراہا اور شرکاء کی سہولت کے لیے کیے گئے انتظامات پر انہیں مبارک باد دی۔ مختلف شہروں سے آنے والے تنظیمی ذمہ داران، مندوبین اور مہمانوں کی آمد نے اجتماع کو قومی سطح پر اتحاد و یگانگت کی خوبصورت مثال پیش کر رہا تھا۔

افتتاحی نشست کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد معروف نعت خواں سید زبیب مسعود شاہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔

اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور انہیں دعوت دی کہ وہ اس تین روزہ روحانی سفر کو اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چند دنوں کے دوران دنیاوی مصروفیات سے خود کو الگ رکھتے ہوئے ذکرِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، عبادت، خود احتسابی اور اصلاحِ نفس پر بھرپور توجہ دی جائے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایمان محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایسا زندہ تعلق ہے جو انسان کے کردار، سوچ، معاملات اور زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد، اخلاص، صبر، شکر اور حسنِ اخلاق ہی ایک مومن کی حقیقی پہچان ہیں۔ اگر انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے تو اس کی زندگی میں سکون، مقصدیت اور باطنی اطمینان پیدا ہوتا ہے، جو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

شام اور رات کے اوقات میں شرکاء نے اجتماعی نمازوں، ذکرِ الٰہی اور دعاؤں میں بھرپور شرکت کی۔ نمازِ عشاء کے بعد منعقد ہونے والے خصوصی روحانی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ایمان باللہ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان انسان کو مشکلات میں ثابت قدمی، امید اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالتے ہوئے اپنے باطن کی اصلاح اور قربِ الٰہی کے حصول کو اپنی زندگی کا مستقل مقصد بنائیں۔

پہلے روز کی تمام سرگرمیوں کا اختتام اجتماعی ذکر، خصوصی دعا اور روحانی محاسبے کے ماحول میں ہوا، جہاں شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی مضبوطی، دلوں کی پاکیزگی اور دین پر استقامت کی دعائیں کیں۔ اس طرح الہدایہ آسٹریلیا 2026 کا پہلا دن ایمان، عبادت، روحانی تربیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تجدید کے پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July-2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

الہدایہ آسٹریلیا 2026: دوسرا دن – 11 جولائی 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

الہدایہ آسٹریلیا 2026 کے دوسرے روز کا آغاز نمازِ تہجد، نمازِ فجر، محفلِ ذکر اور تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔ اس کے بعد معروف نعت خواں سید زبیب مسعود شاہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس نے شرکاء کے دلوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کر دیا اور اجتماع میں روحانی کیفیت کو مزید جلا بخشی۔ بعد ازاں شرکاء نے صبح کی سیر، ناشتے اور مختلف تفریحی و جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن میں کھیلوں اور دیگر آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز نے نوجوانوں اور خاندانوں کو باہمی تعاون، صحت مند طرزِ زندگی اور خوشگوار ماحول فراہم کیا۔

دن کے پہلے علمی سیشن میں Evolve Minds کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریہام ابو السنہ نے ’’بچوں اور بڑوں میں اضطراب (Anxiety): اس کی وجوہات اور مؤثر تدارک‘‘ کے موضوع پر مفید گفتگو کی۔ انہوں نے ذہنی دباؤ اور اضطراب کی علامات، اسباب اور ان سے نمٹنے کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط خاندانی تعلق، مثبت طرزِ فکر، روحانی وابستگی اور مؤثر گفتگو ذہنی صحت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد EAGERS آسٹریلیا کے بچوں نے حمد، نعت اور درود و سلام پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔ بچوں کی پُراعتماد اور پُرخلوص پیشکشوں نے نہ صرف محفل کو روحانی رنگ بخشا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ نئی نسل کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت منہاج القرآن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس موقع پر محترمہ فضہ حسین قادری نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں قرآنِ مجید، سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اقدار سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے بچوں میں خصوصی تحائف بھی تقسیم کیے۔

دوپہر کے مرکزی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ’’ایمان بالرسالت‘‘ کے موضوع پر جامع خطاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر ایمان صرف آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سیرت، سنت اور تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ عدل، رحم، دیانت، عاجزی، حسنِ اخلاق اور خدمتِ انسانیت کا کامل نمونہ ہے، جس پر عمل کر کے فرد اور معاشرہ دونوں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندگانِ خدا کے حقوق کی ادائیگی کو بھی ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت انسان کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ حقیقی دینداری عبادات کے ساتھ حسنِ اخلاق، عدل، خدمت، احترامِ انسانیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ظاہر ہوتی ہے۔ جدید دور کے تمام سماجی اور اخلاقی چیلنجز کا بہترین حل سیرتِ نبوی ﷺ کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔

اسی دوران خواتین کے خصوصی سیشن میں محترمہ فضہ حسین قادری نے والدین، خاندانوں اور نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کے ایمان، اسلامی شناخت اور اخلاقی تربیت کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی پہلی درسگاہ گھر ہے، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت پر مبنی ماحول فراہم کریں اور بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع کے منفی اثرات سے بچاتے ہوئے انہیں سیرتِ نبوی ﷺ، اہلِ بیتِ اطہارؑ، صحابۂ کرامؓ اور اولیائے کرام کی روشن تعلیمات سے جوڑے رکھیں۔

دوسرے روز منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن (MWF) کے خصوصی تعارفی سیشن بھی منعقد ہوئے۔ ڈاکٹر فرید الدین نے ’’آغوش پراجیکٹ‘‘ کے ذریعے یتیم اور مستحق بچوں کی کفالت، تعلیم، صحت اور کردار سازی کے حوالے سے فاؤنڈیشن کی خدمات پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، آسٹریلیا مسٹر روحیل دَلوی نے MWF آسٹریلیا کی قومی اور بین الاقوامی فلاحی سرگرمیوں، نوجوانوں کی رضاکارانہ خدمات، تعلیمی منصوبوں اور سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں کا تعارف پیش کیا۔ ان پریزنٹیشنز نے حاضرین کو انسانیت کی خدمت کے اس مشن میں عملی کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

اسی روز پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کوئنزلینڈ، ملبورن اور کینبرا سے آئے ہوئے تنظیمی ذمہ داران سے خصوصی Meet & Greet نشست منعقد کی۔ اس ملاقات میں تنظیمی امور، دعوتی سرگرمیوں، مستقبل کے منصوبوں اور مختلف ریاستوں میں منہاج القرآن کے مشن کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے ذمہ داران کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں اخلاص، اتحاد اور مسلسل محنت کے ساتھ دین کی خدمت جاری رکھنے کی تلقین کی۔

نمازِ عشاء کے بعد منعقد ہونے والے خصوصی آن لائن سیشن سے قبل سید شاہ رفیع الدین قادری نے خوبصورت نعت و منقبت پیش کی، جس نے اجتماع میں عشقِ رسول ﷺ اور ذکرِ الٰہی کی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا۔

اس کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے آن لائن خصوصی خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے مغربی معاشروں میں آباد مسلمان خاندانوں کے لیے ایمان، شناخت اور زبان کے باہمی تعلق کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انگریزی زبان بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں تعلیم، تحقیق اور معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، تاہم اگر نئی نسل صرف انگریزی ہی کے ذریعے دین کو سمجھے تو وہ اسلامی تہذیب، علمی ورثے اور روحانی روایت سے آہستہ آہستہ دور ہو سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں انگریزی کے ساتھ اپنی وراثتی زبان اور عربی زبان سے بھی مضبوط تعلق قائم رکھا جائے تاکہ نئی نسل اپنی دینی شناخت، تہذیبی شعور اور اسلامی علوم سے وابستہ رہے۔

شیخ الاسلام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایمان صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ محبت، خاندان، روحانی ماحول، اسلامی ثقافت اور صالح صحبت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ انہوں نے جدید سوشل میڈیا اور الگورتھم پر مبنی معلومات کے غیر محتاط استعمال سے پیدا ہونے والے فکری انتشار سے آگاہ کرتے ہوئے مستند علماء، دینی اداروں اور اصل اسلامی مصادر سے وابستگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ آنے والی نسلوں کی فکری، روحانی اور تہذیبی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

دوسرے روز کی تمام سرگرمیوں کا اختتام حسبِ معمول ذکرِ الٰہی، اجتماعی دعا اور روحانی محاسبے پر ہوا، جہاں شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان میں استحکام، دین پر استقامت، نسلِ نو کی حفاظت اور امتِ مسلمہ کی فلاح کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

الہدایہ آسٹریلیا 2026: تیسرا دن – 12 جولائی 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

الہدایہ آسٹریلیا 2026 کے تیسرے اور اختتامی روز کا آغاز بھی نمازِ تہجد، نمازِ فجر، محفلِ ذکر، تلاوتِ قرآنِ مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ صبح کی یہ روح پرور ساعتیں شرکاء کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، گزشتہ دو دن کی روحانی کیفیات پر غور و فکر کرنے اور اپنے سفرِ سلوک کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنیں۔ ناشتے کے بعد مختلف تنظیمی اور تربیتی نشستوں کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں خواتین، نوجوانوں اور مختلف تنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔

دن کی پہلی اہم سرگرمی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج ویمن لیگ نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کی عہدیداران اور منہاج سسٹرز سے ملاقات کی۔ اس موقع پر محترمہ فضہ حسین قادری بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں تنظیمی امور، دعوتی منصوبوں، تعلیمی سرگرمیوں اور معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر میں خواتین کے مؤثر کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خواتین کی تنظیمی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں علم، کردار سازی اور روحانی تربیت کے ذریعے آنے والی نسلوں کی بہتر رہنمائی جاری رکھنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد منہاج ویمن لیگ اور منہاج سسٹرز کے زیر اہتمام محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منعقد ہوئی، جس میں درود و سلام اور محبتِ رسول ﷺ کے اظہار نے اجتماع کو مزید روحانی رنگ عطا کیا۔

بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن (MWF) آسٹریلیا کی ٹیم سے خصوصی ملاقات کی۔ اس دوران MWF آسٹریلیا کے ڈائریکٹر مسٹر روحیل دلوی نے فاؤنڈیشن کی سالانہ کارکردگی، فلاحی منصوبوں اور کمیونٹی سروسز پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جبکہ ڈاکٹر فرید الدین اور دیگر ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ٹیم کی انسانی خدمت کے جذبے اور مختلف رفاہی منصوبوں کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مؤثر انداز میں دائرۂ خدمت کو وسعت دینے، نوجوانوں کو فلاحی سرگرمیوں سے جوڑنے اور معاشرے کے ضرورت مند طبقات کی خدمت کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔

اس کے بعد منہاج یوتھ لیگ کے نوجوانوں کے ساتھ ایک خصوصی سوال و جواب اور انٹرایکٹو نشست منعقد ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے وقت کی اہمیت، زندگی کے مقصد اور جدید ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی اور وقت ایک عظیم امانت ہیں، جنہیں علم کے حصول، کردار سازی، عبادت، دین کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات میں وقت ضائع کرنے سے بچنے، اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لانے اور اپنی زندگی کو مقصدیت کے ساتھ گزارنے کی تلقین کی۔

نشست کے دوسرے حصے میں نوجوانوں نے مختلف دینی، تعلیمی، سماجی اور ذاتی موضوعات پر سوالات کیے، جن کے جوابات پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل، متوازن اور عملی انداز میں دیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ مضبوط ایمان، اعلیٰ اخلاق، مسلسل علم حاصل کرنے کی جستجو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہی ایک کامیاب مسلمان نوجوان کی حقیقی شناخت ہے۔ اس نشست نے نوجوانوں کو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو دین و معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا عملی جذبہ عطا کیا۔

دوپہر کے مرکزی اور اختتامی روحانی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ’’اولیائے اللہ سے محبت اور روحانی وابستگی‘‘ کے موضوع پر جامع خطاب فرمایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ظاہری اعمال کے ساتھ دل کی اصلاح، تزکیۂ نفس، اخلاص اور حقیقی توبہ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ توبہ صرف ظاہری گناہوں سے معافی مانگنے کا نام نہیں بلکہ حسد، تکبر، بغض، لالچ، ریا اور دیگر باطنی بیماریوں سے دل کو پاک کرنا بھی حقیقی توبہ کا لازمی حصہ ہے۔ جب انسان اپنے باطن کو ان روحانی امراض سے پاک کرتا ہے تو اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت، اخلاص اور تقویٰ سے منور ہو جاتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ دور میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت مادی آسائشیں نہیں بلکہ روحانی سکون اور قلبی اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترقی، ٹیکنالوجی اور مادی وسائل انسان کی ظاہری ضروریات تو پوری کر سکتے ہیں، لیکن دل کا سکون صرف ذکرِ الٰہی، عبادت، صالحین کی صحبت اور اولیائے کرام کی تعلیمات سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے حضرت داتا گنج بخشؒ، امام غزالیؒ اور دیگر اکابرینِ امت کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ صالح صحبت انسان کے ایمان، کردار اور روحانی زندگی کو سنوارنے کا مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ اولیائے اللہ سے محبت انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کی منزل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

اختتامی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے الہدایہ آسٹریلیا 2026 کی شاندار کامیابی پر منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریلیا، منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، منہاج ویمن لیگ، منہاج یوتھ لیگ، EAGERS آسٹریلیا، تمام منتظمین، رضاکاروں اور شرکاء کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے تربیتی اجتماعات نوجوان نسل کی دینی، فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔

بعد ازاں الوداعی نشست منعقد ہوئی، جس میں شرکاء کو آئندہ بھی علم، ذکر، دعوت اور خدمتِ دین سے وابستہ رہنے کی تلقین کی گئی۔ مختلف تنظیمی ذمہ داران نے مختصر اظہارِ تشکر پیش کیا، جبکہ اجتماعی ذکر، دعا کے ساتھ الہدایہ آسٹریلیا 2026 اپنے اختتام کو پہنچا۔

الہدایہ کیمپ کے دوران قائم کردہ بک اسٹال بھی شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا، جہاں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کی تصانیف کی بھرپور نمائش کی گئی۔ قرآن، حدیث، تصوف، سیرت، جدید اسلامی فکر، اخلاقیات اور شخصیت سازی جیسے مختلف موضوعات پر مشتمل یہ علمی ذخیرہ شرکاء کے لیے علم و معرفت کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوا۔

تین روزہ الہدایہ آسٹریلیا 2026 صرف ایک کیمپ نہیں بلکہ ایمان، معرفت، کردار سازی اور تزکیۂ نفس کا ایک جامع تربیتی سفر ثابت ہوا۔ اس اجتماع نے عبادت، علم، روحانیت، تنظیمی ہم آہنگی، نوجوانوں کی فکری رہنمائی، خواتین کی مؤثر شمولیت، بچوں کی دینی تربیت اور خدمتِ انسانیت جیسے تمام پہلوؤں کو ایک متوازن اور مؤثر انداز میں یکجا کیا۔

’’الصحبة والسير إلى الله‘‘ کے مرکزی تصور کے مطابق شرکاء نے نہ صرف روحانی رفاقت کی برکتیں حاصل کیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، محبتِ رسول اکرم ﷺ، صالحین کی صحبت، اعلیٰ اخلاق، خدمتِ خلق اور دعوتِ دین کے عزم کی تجدید بھی کی۔ یقیناً الہدایہ آسٹریلیا 2026 نے ہزاروں دلوں میں ایمان، محبت، اخلاص اور روحانی بیداری کی ایسی شمع روشن کی جو مستقبل میں بھی افراد، خاندانوں اور معاشرے کی اصلاح و تعمیر کا ذریعہ بنتی رہے گی، ان شاء اللہ۔

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

Highlights of Al Hidayah Australia July 2026

تبصرہ